A moment of patience can help you avoid years of regret

 

والدین کے اکلوتے بیٹے اور دو بہنوں کے اکلوتے پڑھے لکھے بھائی سلیم صابر کا اپنے محلے کے ایک نوجوان سے جھگڑا ہو گیا. ہاتھا پائی ہوئی اور کچھ گالیوں کا تبادلہ بھی ہوا.سلیم صابر گھر آیا اور اپنے کمرے میں بیٹھ گیا. اس نے اپنے دشمن کو مارنے کا فیصلہ کر لیا اور الماری سے پستول نکال لیا. اچانک اسے اپنے ایک دوست کی نصیحت یاد آ گئی. دوست نے اسے ایسا کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے 30 منٹ کے لئے واردات کے بعد کی صورتحال تصوراتی طور پر دیکھنے کا کہا تھا.
سلیم صابر نے تصور میں اپنے دشمن کے سر میں تین گولیاں فائر کر کے اسے ابدی نیند سلا دیا. ایک گھنٹے بعد وہ گرفتار ہو گیا. گرفتاری کے وقت اس کے والدین اور دو بہنیں پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں. اس کی ماں بے ہوش ہو گئی. مقدمہ شروع ہوا تو گھر خالی ہونا شروع ہو گیا. ایک کے بعد ایک چیز بکتی گئی. بہنوں کے پاس تعلیم جاری رکھنا ناممکن ہو گیا اور ان کے ڈاکٹر بننے کے خواب مقدمے کی فائل میں خرچ ہو گئے. بہنوں کے رشتے آنا بند ہو گئے اور ان کے سروں میں چاندی اترنے لگی. جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہر ہفتے والدین اور بہنیں ملاقات کے لئے جاتے. بہنوں کا ایک ہی سوال ہوتا کہ بھیا اب ہمارا کیا ہو گا؟ ہم اپنے بھائی کے بستر پر کسے سلائیں گی؟ ہم بھائی کے ناز کیسے اٹھائیں گی؟ بھائی کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا. فیصلے کا دن آیا اور سلیم صابر کو سزائے موت ہو گئی. سزائے موت کی تاریخ مقرر ہو گئی. 25 منٹ گزر چکے تھے اور سلیم صابر کے جسم پر لرزہ طاری ہو چکا تھا. جیل میں وہ اپنی موت کے قدم گن رہا تھا اور گھر میں والدین اور بہنیں اپنے کرب اور اذیت کی جہنم میں جھلس رہے تھے. سلیم صابر کی آنکھوں پر کالی پٹیاں باندھ دی گئیں اور اسے پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا گیا. 29 منٹ ہو چکے تھے. پھانسی گھاٹ پر پیر رکھتے ہی 30 منٹ پورے ہو گئے. سلیم صابر پسینہ پسینہ ہو چکا تھا. اس کے جسم میں کپکپی طاری تھی. اس نے پستول واپس الماری میں رکھ دیا. اس نے میز سے اپنی بہنوں کی دو کتابیں اٹھائیں اور بہنوں کے پاس گیا. بہنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری پیاری بہنو تمہارے پڑھنے کا وقت ہو گیا ہے. خوب دل لگا کر پڑھو کیونکہ تمہیں ڈاکٹر بننا ہے.
چند ماہ بعد سلیم صابر ایک بینک میں اچھی پوسٹ پر ملازم ہو گیا. سلیم صابر کی دونوں بہنیں ڈاکٹر بن گئیں. وہ ایک کامیاب اور بھرپور زندگی گزار رہے ہیں. ان 30 منٹ کی تصوراتی واردات اور 30 منٹ کے مقدمے کی کارروائی نے ایک پورے گھر کو اجڑنے سے بچا لیا. آپ اپنی زندگی میں یہ 30 منٹ اپنے لئے ضرور بچا کے رکھئیے گا، یہ 30 منٹ کی تصوراتی اذیت آپ کو زندگی بھر کی اذیت سے بچا لے گی!…

Related posts

ٹھنڈیانی کی شام اور چوکیدار کا کمرہ

ٹھنڈیانی کی شام اور چوکیدار کا کمرہ

  کبھی کبھی کسی بہترین مقام کی نسبت کسی معمولی اور چھوٹی سی جگہ سے ہو جاتی ہے ہمارے ساتھ یہی ہوا تھا. ویک اینڈ تھا اور بائیک پر اسلام آباد سے ٹھنڈیانی جانے کا پروگرام بن گیا ہمارے پروگرام یونہی بن جاتے تھے. خیال آیا اور منہ اٹھا کر چل دئیے. دوسرے بائک پر صفدر ( بھائی) اور جاوید تھے...

Story of Friendship ,Spread Love

Story of Friendship ,Spread Love

      I noticed Zohra every now and then passing by our house to reach the langar ‘communal meal’. I felt sad every time I noticed her family eating by the roadside. A few days later, I was playing outside with my brother when she asked me if I can give her a glass of...

Story of Love Husband & wife

Story of Love Husband & wife

  "Our marriage lasted for 27 years and 2 months. She was sick. The gynaecologist was trying her best to save her life. But it was her time. I did not realize it while we were together but my whole world fell apart when she passed away. Spouses fight, and have arguments every second day...

Humans of Pakistan | Story of Signing Family

Humans of Pakistan | Story of Signing Family

  We are a "signing" family. Wasi was born to our family of deaf individuals - parents with deafness and three deaf brothers. As a result, at the time of his birth, we assumed he too was deaf. It was only after three years, when I read about his symptoms on the internet and...

Happy to be a mother of special child

Happy to be a mother of special child

  In May, 2015, my life was shaken upside down when I became mother of a 23 weeks premature baby boy weighing just 600 grams. The last 25 years of my life were not enough to prepare for what led ahead of me. My son stayed in hospital for a year before finally coming home for the first...

Story of Young Boy from Pakistan

Story of Young Boy from Pakistan

  My father is a daily wage laborer and does his best to keep our stove warm. To support him, I learned the skill of key-crafting from my relative, so that my father has one less mouth to feed. I come here everyday after school to work. I use the money I earn to support my family and...

Leave a Reply