Do you Like Story? 8.3
Summary rating from 3 user's marks. You can set own marks for this article - just click on stars above and press "Accept".
Accept
Summary 8.3 great

ٹھنڈیانی کی شام اور چوکیدار کا کمرہ

 

کبھی کبھی کسی بہترین مقام کی نسبت کسی معمولی اور چھوٹی سی جگہ سے ہو جاتی ہے ہمارے ساتھ یہی ہوا تھا. ویک اینڈ تھا اور بائیک پر اسلام آباد سے ٹھنڈیانی جانے کا پروگرام بن گیا ہمارے پروگرام یونہی بن جاتے تھے. خیال آیا اور منہ اٹھا کر چل دئیے. دوسرے بائک پر صفدر ( بھائی) اور جاوید تھے. جاوید میرے پاس پڑھنے آتا تھا اور ویک اینڈ پر میتھ کی مشق کےلیے آیا تھا اس کے شوق اور شدید اصرار پر اسے بھی ساتھ لے لیا. تقریباً ایک بجے دن اسلام آباد سے نکلے اور رکے بغیر کالا پانی تک پہنچ گئے جہاں شدید بارش نے آ لیا تھوڑی دیر رک گئے اور بارش کم ہونے پر دوبارہ چل پڑے روڈ بالکل سنسان کہ ابھی سیزن شروع نہیں ہوا تھا اپریل کا پہلا ہفتہ تھا. بھیگنے سے سردی لگنے لگی. ہماری منزل ٹھنڈیانی کا فاریسٹ ریسٹ ہاوس تھا جہاں قیام کےلیے کمرہ مل جانے کا یقین تھا کیونکہ اسی وقت تک ٹھنڈیانی بہت معروف جگہ نہیں تھی. ریسٹ ہاوس پہنچے تو دیکھا کہ کمپاؤنڈ میں ایک جیپ کھڑی تھی. ہماری بائیکس کی آواز سن کر شلوار قمیض اور چادر میں ملبوس ایک شخص ہمارے قریب آیا خیریت پوچھی اور مجھے چھتری پیش کی کیونکہ بارش ابھی بھی ہو رہی تھی. اس کی معیت میں ہم تقریباً بھاگتے ہوئے ریسٹ ہاوس کی عمارت کے باہر بنے ہوئے ایک کمرے میں پہنچ گئے جو معلوم ہوا کہ چوکیدار کا کمرہ ہے اور ایک دیوار کے ساتھ لگی چارپائی پر بچھے ملگجے سے بستر پر کوئی صاحب آرام کر رہے ہیں. آنکھیں بند کئے انھوں نے اونچی آواز میں پوچھا اوئے ہاشم آ گیا چوکیدار؟

نہیں خان جی نہیں آیا یہ تو اسلام آباد سے پروہنے ( مہمان) آئے ہیں. پھر ہمیں مخاطب ہو کر کہا ” یہ سردار امان اللہ جدون ہیں. میں ان کا ڈرائیور ہوں.

مہمان کا سن کر سردار صاحب آٹھ کر بیٹھ گئے گرمجوشی سے کہا آو جی بارش میں کدھر نکل آئے؟ ہاشم ڈرائیور جلدی سے بولا خان جی موٹر سائیکلوں پر آئے ہوئے ہیں. سردار صاحب کافی حیران ہوئے اور ہاشم سے کہا جلدی سے چولہا جلاؤ یہ بچی کپڑے تو خشک کرے. ہم چاروں چولہے کے اردگرد بیٹھ گئے. سردار صاحب ہم سے باتیں کرنے لگے. پتہ چلا کہ ریسٹ ہاوس کا چوکیدار اپنے گاؤں کسی فوتگی پر گیا ہوا ہے. ریسٹ ہاوس کے کمرے لاک تھے اور سردار صاحب بھی چوکیدار کی واپسی کے منتظر تھے کیونکہ وہ قیام کی نیت سے آئے ہوئے تھے. اس اثنا میں بارش تیز ہو گئی تھی اور سردی بڑھ گئی تھی. ہم حیران تھے کہ یہ کیسے سردار ہیں جو اس علاقے کی سماجی اور سیاسی شخصیت ہیں ( ان کے ڈرائیور نے معلومات فراہم کی تھیں) چوکیدار کے نہ ہونے پر ذرا بھی برہم نہیں اور اس کے میلے بستر میں مزے سے بیٹھے ہوئے ہیں. چوکیدار کے آنے کی امید کم ہونے لگی تو ہم نے سردار صاحب کے کہنے پر وہاں پڑی اشیائے خورد و نوش کا جائزہ لینا شروع کیا. دودھ انڈے چائے کی پتی پڑی تھی بلکہ گندھا ہوا آٹا بھی موجود تھا. سردار صاحب نے کہا بچو اس بارش میں واپسی کا تو سوچا بھی نہیں جا سکتا اب کچھ دال دلیا کرو بھوک لگی ہوئی ہے. ہمیں بھی بھوک لگ رہی تھی اور چائے کی طلب بھی ہو رہی تھی. میں نے پکانے کا کام شروع کیا انڈوں کا خاگینہ بنایا گیا. پھر ہاشم ڈرائیور کی مدد سے روٹی بنائی. اتنے میں باہر کچھ کھٹ پٹ ہوئی اور بولنے کی آواز آئی. پتہ چلا کہ نزدیکی گھر سے کسی نے مہمانوں کےلیے سوجی کا حلوہ اور چائے کا تھرماس بھجوایا ہے. بس پھر کیا تھا خوشی خوشی دستر خوان بچھا اور کھانا لگایا گیا. بڑا گھریلو آرام دہ اور پر سکون ماحول تھا. ہم سب نیچے دسترخوان پر اور سردار صاحب بستر پر بیٹھے کھانا کھا رہے تھے. ہر لقمے پر سردار صاحب کھانے کی تعریف کرتے اور مجھے شاباش دیتے حالانکہ روٹی اچھی نہیں بنی تھی. مجھے روٹی بنانے میں مہارت نہیں تھی. کھانے کے بعد مشبر صاحب اور صفدر نے کمرے کو اچھی طرح کھنگالا اور ایک کونے سے چابیوں کا گچھا برآمد کر لیا جس میں پورے ریسٹ ہاوس کی چابیاں تھیں. سردار صاحب کی اجازت سے کمرے کھولے گئے. سردار صاحب سے کہا کہ کمرے میں چلے جائیں لیکن انھوں نے انکار کر دیا کہا میں تو ادھر ہی سیٹ ہوں. آپ لوگ جائیں. سونے سے پہلے کمرہ لاک ضرور کرلینا. ہم لوگ سردار صاحب کی سادہ مزاجی پر حیران کمرے میں آ کر سو گئے. صبح باہر نکل کر دیکھا موسم بدستور ابر آلود تھا چوکیدار واپس آ چکا تھا اور ناشتہ بنا کر ہمارے آٹھنے کا منتظر تھا. اسی کےکمرے میں ناشتہ کیا گیا کیونکہ سردار صاحب وہیں بیٹھے تھے. ناشتے کے بعد ہم نے واپسی کا فیصلہ کیا کیونکہ بارش میں گھومنا پھرنا ممکن نہیں تھا. چوکیدار سے حساب پوچھا تو پتہ چلا کہ سردار صاحب نے ہمارے قیام وطعام کی ادائیگی کر دی تھی. تشکر کے احساس سے جھکے سردار صاحب سے رخصت طلب کی. انھوں نے بڑی اپنائیت سے خدا حافظ کہا. میرے سر پر ہاتھ رکھا اور سو روپے کا نوٹ میری مٹھی میں تھما دیا. بڑی شفقت سے کہا بیٹی اگر ہمارے گھر پر آتیں تو جوڑا دے کر رخصت کرتے. سردار صاحب کی کوئی غرض ہم سے وابستہ نہیں تھی بلکہ انھوں نے تو شاید ہمارے نام بھی نہیں پوچھے تھے. ہم نے پیسے لینے سے انکار کرنا چاہا تو انھوں نے کہا ہم ہزارہ وال روایت پسند لوگ ہیں مہمان کی عزت اور خدمت ہماری روایت ہے. دھائیاں گزرنے کے بعد بھی سردار صاحب کی شخصیت یادوں کے افق پر روشن ہے اور جب تک دنیا میں مہمان داری سادگی اور انکساری کی رمق بھی موجود ہے سردار امان اللہ جدون میری یادوں اور دعاؤں میں رہیں گے.

ٹھنڈیانی میں تو بارش کی وجہ سے کوئی پکچر نہیں بنا پائے تھے یہ پکچر واپسی پر ہری پور کے بعد بنائی تھی.

Haripur, on the way back from Thandiani

April 1986.

 

Story by Yasmin Shaukat

Related posts

Story of Friendship ,Spread Love

Story of Friendship ,Spread Love

      I noticed Zohra every now and then passing by our house to reach the langar ‘communal meal’. I felt sad every time I noticed her family eating by the roadside. A few days later, I was playing outside with my brother when she asked me if I can give her a glass of...

Story of Love Husband & wife

Story of Love Husband & wife

  "Our marriage lasted for 27 years and 2 months. She was sick. The gynaecologist was trying her best to save her life. But it was her time. I did not realize it while we were together but my whole world fell apart when she passed away. Spouses fight, and have arguments every second day...

Humans of Pakistan | Story of Signing Family

Humans of Pakistan | Story of Signing Family

  We are a "signing" family. Wasi was born to our family of deaf individuals - parents with deafness and three deaf brothers. As a result, at the time of his birth, we assumed he too was deaf. It was only after three years, when I read about his symptoms on the internet and...

Happy to be a mother of special child

Happy to be a mother of special child

  In May, 2015, my life was shaken upside down when I became mother of a 23 weeks premature baby boy weighing just 600 grams. The last 25 years of my life were not enough to prepare for what led ahead of me. My son stayed in hospital for a year before finally coming home for the first...

Story of Young Boy from Pakistan

Story of Young Boy from Pakistan

  My father is a daily wage laborer and does his best to keep our stove warm. To support him, I learned the skill of key-crafting from my relative, so that my father has one less mouth to feed. I come here everyday after school to work. I use the money I earn to support my family and...

Gilgit to Lahore, Story of A Young Girl

Gilgit to Lahore, Story of A Young Girl

Coming to a Lahore for higher education was never the issue as almost every student in Gilgit did that. However, a lot of people demotivated me to reconsider my decision of getting in NCA since it was a liberal arts college, but I believe that not listening to those people was the best...

Leave a Reply